ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گئو کشی کےنام پر جھارکھنڈ میں پھر ہجومی دہشت گردی؛ ایک کی موت دو شدید زخمی؛ پانچ گرفتار

گئو کشی کےنام پر جھارکھنڈ میں پھر ہجومی دہشت گردی؛ ایک کی موت دو شدید زخمی؛ پانچ گرفتار

Mon, 23 Sep 2019 13:57:42    S.O. News Service

کھونٹی 23/ستمبر (ایس او نیوز) بی جے پی کے زیر قیادت  والی ریاست جھارکھنڈ میں  ہجومی  دہشت گردی  کی ایک اور واردات پیش آئی ہے جس میں ہمیشہ کی طرح  گئو کشی کے نام پر  ایک ہجوم نے  تشدد  برپا کرتے ہوئے تین لوگوں کی زبردست پیٹائی کی ہے جس میں   ایک ہلاک ہوگیا ہے۔ واردات میں دو لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں  رانچی اسپتال  منتقل کیا گیا ہے۔

تازہ واردات اتوار کی صبح دس بجے پیش آئی جب جھارکھنڈ کی راجدھانی کے قریب کھونٹی ضلع کے  کررا تھانہ  حدود میں مویشی کاٹنے کے شبہ میں  تشدد پر آمادہ بھیڑ نے تین لوگوں کو پیٹنا شروع کردیا۔ ان تینوں کی شناخت کیلیم بارلا، فاگو کچھپ اور فلپ ہورو کی حیثیت سے کی گئی ہے۔  میڈیا والوں نے جب  پولس کے اعلیٰ آفسر سے  گوشت کے تعلق سے سوال کیا تو آفسر نے  بتایا کہ گئو کشی کے معاملے  پر ہی یہ واردات پیش آئی ہے، البتہ اس وقت وہ یہ نہیں بتاسکتے کہ آیا پولس کو گوشت ملا ہے یا نہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولس جائے وقوع پر پہنچ گئی اور تینوں کو ہجومی تشدد سے بچاتے ہوئے  اسپتال منتقل کیا، مگر  اسپتال پہنچنے تک ایک شخص نے دم توڑ دیا۔ مرنے والے کی شناخت 34 سالہ کیلیم بارلا کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ دو دیگر زخمیوں کی حالت بھی تشویشناک بتائی گئی ہے۔

ہجومی تشدد کی اطلاع پاتے ہی موقع واردات پر پہنچنے والے ڈی آئی جی مسٹر اے وی ہومکر نے بتایا کہ  پولس واقعے کی خبر ملتے ہی  جائے وقوع پر پہنچی تھی اور تینوں لوگوں کو  ہجوم بھیڑ سے  بچاتے ہوئے  فوری قریبی اسپتال منتقل کیا تھا، جہاں سے  زائد علاج کے لئے تینوں کو  رانچی ریمس میں منتقل کیا گیا، ریمس میں علاج کے دوران  کیلیم بارلا کی موت واقع ہوگئی۔ ڈی آئی جی نے دیگر دو زخمیوں کے تعلق سے بتایا کہ وہ اب خطرہ سے باہر ہیں۔

پولس نے  ہجومی دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد پانچ  لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے، میڈیا رپورٹوں کے مطابق  معاملے کی چھان بین کھونٹی کے ڈی سی اور چار ڈی ایس پی کررہے ہیں۔

ہجومی دہشت گردی  کی اس  واردات کے بعد پورا علاقہ پولس چھاونی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ پورے علاقہ میں  دہشت کا ماحول ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق  جن لوگوں کو پولس نے گرفتار کیاہے، اُن کا تعلق بجرنگ دل سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق  گرفتاری کے بعد قریب ڈیڑھ سو لوگوں کے ایک ہجوم نے اتوار کی شام کو  پولس تھانہ کا گھیراو بھی کیا ، ان لوگوں  کا مطالبہ تھا کہ گرفتار شدگان کو  رہا کیا جائے۔

یاد رہے کہ جھارکھنڈ میں موب لنچنگ کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے، اس سے پہلے جون 2019 میں 22 سال کے تبریز انصاری نامی ایک نوجوان کو موٹر سائیکل چوری کے شبہ میں بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا، اسپتال میں علاج کے دوران تبریز کی بھی موت ہو گئی تھی۔

 


Share: